Thursday, June 21, 2018

الیکشن 2018 ء
 این اے 15 سے ایک ہی پارٹی کے دو طاقتور سیاسی سانڈ مد مقابل
--------------------------
دونوں نا اہل لیگ کے اہم ترین ستون ۔۔۔۔ دونوں پارٹی قیادت کے وفادار ترین ساتھی بھی ۔۔۔۔ رائے ونڈ سرکار کس کو ٹکٹ دے گی، خود ان کو بھی معلوم نہیں ۔
--------------------------
سردار مہتاب کے اسلام آباد سے کاغذات مسترد ہونے کے بعد آئندہ تھُک تھغڑی ۔۔۔۔۔ کی سیاست سرکل بکوٹ میں بھی مشکوک
--------------------------
تحریک نا انصاف کی صفوں میں بھی بے یقینی ۔۔۔۔ گزشتہ روز کی سردار یعقوب کی کپتان سے ملاقات میں سرکل بکوٹ میں ٹکٹ پر نظر ثانی کا وعدہ لینے میں کامیاب
--------------------------
جماعت اسلامی سرکل بکوٹ کے صوبائی امیدوار ۔۔۔۔ ساجد قریش عباسی ۔۔۔۔ کے بکوٹ اور ملکوٹ میں اہم ترین جلسے ۔۔۔۔ نااہل لیگ اور تحریک نا انصاف کے گاڈ فادرز کے لارے لپوں سے تنگ عوام علاقہ کی جماعت اسلامی میں شمولیت کے اعلانات
--------------------------
تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پر باشعور نوجوان ۔۔۔۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں، کسی ہسپتال اور پختہ سڑکوں سے محروم سرکل بکوٹ میں پہلی بار ۔۔۔۔ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دینے کی تحریک چلا رہے ہیں
****************************
تحقیق  و تحریر
محمد عبیداللہ علوی بیروٹوی
****************************
    موجودہ الیکشن کا طرہ امتیاز ہی کہہ لیجئے کہ ۔۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ اور سرکل لورہ کے ایک دوسرے میں ادغام نے نااہل لیگ کے دو بڑے اور طاقتور ترین سیاسی سانڈوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کر دیا ہے ۔۔۔۔ نااہل لیگ کی ٹکٹوں کی بنڈھ ترنڈھ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے رکن اور ملکوٹی سردار مہتاب کے اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی ٹیکنیکل بنیادوں پر مسترد ہونے کے بعد ۔۔۔۔ سابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ عباسی ۔۔۔۔ کے مقابلے میں ٹکٹ کا معاملہ نہ صرف لٹک گیا ہے بلکہ لورہ والی سرکار کے اس اعلان کے بعد کہ ،،،، وہ ہر حالت میں اپنے حلقہ این اے 15 سے الیکشن لڑیں گے خواہ رائے ونڈ والا گاڈ فادر انہیں ٹکٹ دے یا نہ دے،،،،، ایک بار الیکشن میں ڈاکٹر اظہر کے ہاتھوں شکست فاش کا تمغہ اپنے سینے پر سجانے کے بعد کے پی کے کی گورنری اور پھر سول ایوی ایشن کی چیئرمینی سے گزرتے ہوئے ملکوٹ کا 35 سالہ سیاسی سردار ایسی سیاسی صورتحال سے پہلی بار دوچار ہوا ہے کہ ۔۔۔۔ پیچھے کنواں ہے اور آگے ملکوٹی لینڈ سلائیڈ سے بھی زیادہ گہری کھائی ۔۔۔۔ رائے ونڈ کے سیاسی گاڈ فادر بھی بڑی آزمائش میں ہیں کہ ۔۔۔۔ قومی اسمبلی کی نشست کیلئے ایک ہی برادری اور اپنی نااہل لیگ کے مضبوط ترین ستون اور سب سے بڑھ کر وفا شعار ان دو ساتھیوں میں سے کس کو ٹکٹ دیں ۔۔۔۔ نا اہل لیگ کے ۔۔۔۔ شیر ۔۔۔۔ کی خالہ آئندہ 72 گھنٹوں میں یہاں سے بھی برآمد ہونے والی ہے ۔۔۔۔ یو سی بیروٹ میں ہمارے مربی ۔۔۔۔ نون لیگ بیروٹ کے نمبردار گلاب خان نے اپنا داخل خارج رجسٹر کھول لیا ہے اور مرتضی عباسی کے ساتھ عہد و پیمان کرنے والے اپنے ہرجائی کارکنوں پر گہری نظر رکھے سرداران ملکوٹ تک لمحے لمحے کی رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔

    تحریک نا انصاف کے کارکنوں میں بھی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے بے چینی بڑھ رہی ہے اور اس بے چینی سے یو سی بکوٹ کی ایک فلاحی تنظیم بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے بکھرے موتیوں کو اکٹھے کرنے کی ان تھک کوششیں جاری ہیں ۔۔۔۔ ابھی تک یو سی بیروٹ خورد کی وی سی بیروٹ خورد کے علاقے ہوترول میں سابق ناظم بکوٹ اور ایم پی اے کے امیدوار ۔۔۔۔ جناب نذیر عباسی ۔۔۔۔ نے ایک تھوڑی سی جلسی کی ہے جس میں دس افراد کی پہلی نشست میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔۔۔۔
البتہ اس سے پچھلی ساری نشستیں خیالی، بھرپور اور عظیم الشان سیاسی اجتماع کا پتہ دیتی تھی جیسا قومی امبلی کے سامنے نیازی کپتان ۔۔۔۔ خالی کرسیوں سے دھرنے کے دوران خطاب کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ تحریک نا انصاف کے مقامی لیڈروں اور کرسیاں و دریاں بچھانے ، بات بے بات پر تالیاں بجانے اور ہاتھ دھلوا کر کھانا سرو کرنے والے تیسرے درجے کے کارکنوں میں ۔۔۔۔ سردار یعقوب اور کپتان کے درمیان ہونے والی ملاقات اور ٹکٹوں پر نظر ثانی ۔۔۔۔ کے وعدے کے بعد یہ امید بڑھ چلی ہے کہ مستقبل میں علی اصغر خان اور نذیر عباسی ۔۔۔۔ امیدواری ۔۔۔۔ کے منصب سے سبکدوش ہو جاویں گے ۔۔۔۔ اسی بے یقینی کی صورتحال میں نذیر عباسی نے اپنے فوٹو والے پینا فلیکس اور دیگر پوسٹروں کیلئے اپنے بکوٹ سے تعلق رکھنے والے سپانسر پرنٹر کو ابھی تک چھپائی کا آرڈر بھی نہیں دیا ہے ۔۔۔۔ وہ رات کے پچھلے پہر ضمیر کی اردل میں یہ بات ضرور سوچتے ہوں گے کہ ۔۔۔۔۔ کہہ تاول ای ، تُس وی اتھے ہو، میں وی نس نسنا ۔۔۔؟
    اس 2018ء کے الیکشن میں ۔۔۔۔۔ اپنا وزیر اعلیٰ اور گورنر کے پی کے ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔ عشروں سے اعلیٰ تعلیمی و ٹیکنیکل اداروں، کسی ہسپتال اور پختہ سڑکوں سے مکمل محروم سرکل بکوٹ میں پہلی بار ۔۔۔۔ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دینے کی تعلیم یافتہ نوجوان نسل تحریک چلا رہی ہے اور اس کی بہترین مثال ۔۔۔۔ تحریک تعمیر بیروٹ خورد ۔۔۔۔ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب پیشہ ور سیاستکاروں کے لارے نہیں چلیں گے بلکہ ۔۔۔۔۔ بقول علامہ اقبالؒ
یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے ۔۔۔۔۔ پیش کر غافل، عمل کوئی  اگر دفتر میں ہے!

یو سی بیروٹ سے پہلی بار ۔۔۔۔ جماعت اسلامی سرکل بکوٹ ۔۔۔۔۔۔ کے متفقہ امیدوار اور جہاد کشمیر میں معرکہ آرائی کرنے والے خانوادے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر تعلیم اور ممتاز قانون دان ۔۔۔۔ جناب ساجد قریش عباسی ۔۔۔۔ بھی صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں ۔۔۔۔ ان کی امیدواری کا اہلیان سرکل بکوٹ کو ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ ۔۔۔۔ وی سی باسیاں میں مرکزی مسجد اور انہی کے فرسٹ کزن صفدر عباسی کے مدرسہ للبنات کے عقب اور یو سی بیروٹ میں لب سڑک سکونتی ہیں اور اگر انہوں نے کامیابی کی صورت میں ۔۔۔۔ سرداران ملکوٹ، ایبٹ آبادی جدونوں، کک منگی ملکوں اور دیگر ابن الوقت ایم این اے اور ایم پی ایز کی طرح ۔۔۔۔ تین لاکھ سے زائد اہل سرکل بکوٹ کے مفادات سے روگردانی کی، صوبائی اسمبلی میں ۔۔۔۔ ساہی چھوڑنے ۔۔۔۔ کیلئے گئے، پٹھانوں سے سرکل بکوٹ جیسے کے پی کے کے آخری ہوتر کیلئے فنڈز کا کٹھا نہ نکلوا سکے تو ۔۔۔۔ عوام کا ہاتھ ہو گا اور ان کا گریبان ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ دو سال سے ۔۔۔۔ تحریک قیام تحصیل سرکل بکوٹ ۔۔۔۔ چلا رہے ہیں، ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی متنازعہ شکستہ عمارت کو بھی قبضہ مافیا سے چھڑانے کیلئے مقامی نون لیگی قیادت کے ساتھ مل کر قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔ ساجد قریش عباسی نے ابھی تک سرکل بکوٹ کی ہر ہر یو سی بلکہ وی سیز کا دورہ بھی مکمل کر لیا ہے اور سرکل لورہ کی خوبصورت لوگوں کی اجلی سرزمین پر جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی کے امیدوار عبدالرزاق عباسی ان کی انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں ۔۔۔۔ جماعت اسلامی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار کی الیکشن مہم میں ۔۔۔۔ نکے بڑے ووٹ ۔۔۔ کی تکرار سے پرہیز اور اجتناب کیا جاوے گا ۔۔۔۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے میں انہوں نے سرکل بکوٹ کی دو اہم ترین بکوٹ اور پلک ملکوٹ کی یو سیز میں نذیر عباسی اور سردار فرید کی طرح جلسیاں نہیں بلکہ ۔۔۔۔ انتہائی موثر جلسے کئے ہیں جن کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ۔۔۔۔ نااہل لیگ اور تحریک نا انصاف کی کہہ مکرنیوں اور گزشتہ 35 سال سے محض لارے لپے پر سیاست کرنے والے پیشہ ور امیدواروں سے تنگ ووٹروں نے کثیر تعداد میں جماعت اسلامی سرکل بکوٹ میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے ۔۔۔۔ جناب ساجد قریش عباسی ۔۔۔۔ کے ہاتھ مضبوط کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے اور یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب کردار و با حیثیت ہیں اور قائدانہ کیریکٹر اور صلاحیتوں سے مالا مال بھی ۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ پرمٹ لینے، جرم کرنے کی صورت میں سیاسی چھتری کا سایہ لینے اور جلسوں جلوسوں کیلئے گاڑیاں فراہم کر کے سرکاری خزانے سے کوٹہ پر حج کرنے والے اور اس سے دگنے مالی و مادی مفادات حاصل کرنے والے قیس نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔ رگوں سے مقدس مشن کی تکمیل کیلئے اپنا سرخ لہو نچوڑ کر پیش کرنے والے حقیقی مجنوں ہیں ۔۔۔۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ سچے لوگوں، سچے مقصد اور سچے عزم کا سچا قافلہ ۔۔۔۔۔ جماعت اسلامی نہیں تو اور کون ۔۔۔۔۔؟
    اس الیکشن میں سرکل بکوٹ کا ووٹر ملک میں جہاں کہیں بھی ہے اس کا ووٹ ہیغرا (سنگل) ہے ۔۔۔۔ اب پہلے والی بات نہیں کہ پنڈی میں ووٹ دیکر نکر قطبال (وی سی کہو غربی) میں آکر ووٹ کاسٹ کیا جاتا تھا ۔۔۔۔ اب یا تو راولپنڈی میں یا صرف نکر قطبال میں ہی ووٹ دیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ پی ایچ ڈی، ایم فل یا کم ازکم ایم اے، ایم ایس سی قابلیت کے حامل اکثریتی ووٹر اپنے ووٹ کیلئے توہین سمجھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ وہ ایک ایسے امیدوار کو ووٹ دیں یا اپنا قومی و صوبائی اسمبلی میں نمائندہ منتخب کر بھیجیں جو بیچارہ میٹرک فیل یا پاس یا محض انٹر ہو ۔۔۔۔ وہ ایسے نالائق اور ان پڑھ امیدواروں کے بجائے پولنگ سٹیشن نہ جانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔۔ اور شاید اہل سرکل بکوٹ جانتے ہیں کہ ۔۔۔۔ نا اہل لیگ اور تحریک نا انصاف کے پاس انتہائی تعلیمی ڈگریاں تو ایک طرف میٹرک یا ایف اے پاس امیدوار بھی نہیں ۔۔۔۔۔ سردار فرید خان کی طرح
----------------------------
جمعرات21/جون2018

Sunday, January 8, 2017

Political activities in Circle Bakote
In the year of 2016

******************

  سرکل بکوٹ کی سیاست اور سیاست کاری ۔۔۔۔ سال گزشتہ کے حوالے سے خصوصی رپورٹ
سردار مہتاب نے گورنری کی پھڑی منج سے پیچھا چھڑا لیا ۔۔۔۔ آج کل ڈیڑھ سالہ سیاسی عدت گزار رہے ہیں
بھارتی صوبوں آسام اور ہماچل پردیش پر تین بار گورنری کرنے اور بیروٹ سے تعلق رکھنے والے شفیع قریشی بھی انتقال کر گئے
ایم این اے اور ایم پی اے سارا سال Look busy, do nothing کی پالیسی پر گامزن رہے
اس سال ویلیج کونسلیں بھی فعال کر دی گئیں، انہیں آفسزکے علاوہ سیکرٹری اور سرکاری تنخوادار عوامی نمائندے بھی ملے ہیں۔
سرکل بکوٹ بھر کے ممبران ضلع و تحصیل کونسل اپنی اپنی یو سیز میں ترقیاتی فنڈز لانے میں بری طرح ناکام رہے

*********************

تحقیق و تحریر:محمد عبیداللہ علوی

*********************

سرکل بکوٹ کے حوالے سے بالخصوص اور مجموعی طور پر کوہسار سے متعلق بالعموم سال 2016 ہنگامہ خیز رہا، سیاسی حوالے سے اس سال کی سب سے بڑی نیوز ۔۔۔۔ اپنی زندگی میں پہلی بار سیاسی شکست سے ہمکنار ہونے کے بعد ۔۔۔۔ اپنی بقا (Survival) کیلئے سردار مہتاب احمد خان کا گورنری کے منصب پر تاجپوشی اور پھر ۔۔۔۔ 5 فروری کو اس سے استعفا تھا، سرکل بکوٹ کے لیگی کے پی کے کے اس سب سے بڑے منصب کو ۔۔۔۔ پھڑا (Unfertilized) ۔۔۔۔ قرار دے رہے تھے اور ۔۔۔۔ سردار صاحب سے جس طرح ان کا نادان ہٹو بچو گروپ ایم این اے ڈاکٹر اظہر کی تختیوں پر تختیاں لگوا رہا تھا ۔۔۔ اس سے صاف نظر آ رہا تھا کہ ۔۔۔۔ سردار صاحب کے پاس اب ۔۔۔ اہلیان سرکل بکوٹ کو دینے کیلئے کچھ نہیں بچا ۔۔۔۔ اس تجربے کے بعد سرکل بکوٹ پر 31 برسوں تک بلا شرکت غیرے راج کرنے والے سرداران ملکوٹ سمیت علاقے کے نون لیگیوں کے سپریم ہیڈ سردار مہتاب احمد خان اس نتیجے پر پہنچے کہ ۔۔۔۔ اپنی باقی ماندہ سیاسی زندگانی کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف سرکل بکوٹ میں بلکہ ۔۔۔۔ یہاں کے لوگوں کے دلوں میں بھی موجود رہا جائے ۔۔۔ خواہ لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں یا محض ۔۔۔ چانس کا ہی انتظار کیا جائے ۔۔۔۔ گورنری ایک ایسی پھڑی منج تھی جس کا سیاسی حاصل وصول کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ مہینوں کی سردارن ملکوٹ کی اس سوچ کے بعد ۔۔۔۔ بالآخر انہوں نے اس گورنری سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کر ہی لیا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ وزیر اعظم نواز شریف کو بادل نا خواستہ ۔۔۔۔ استعفا ارسال کر دیا ۔۔۔۔ آج کل سردار مہتاب احمد خان ۔۔۔۔ گورنری کو طلاق دینے کی ڈیڑھ سالہ سیاسی عدت گزار رہے ہیں، آئندہ ماہ اس کا ایک سال پورا ہو جائیگا اور ستمبر تک وہ اس مدت کی تکمیل کا مزید انتظار کریں گے ۔۔۔۔ جی ہاں ۔۔۔۔ کچھ ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔ تمام تر تعلیمی و طبی سہولتوں سے محروم اس سرکل بکوٹ کے سردار مہتاب احمد خان کو اس لحاظ سے سیاسی تاریخ میں ضرور یاد رکھا جائیگا کہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ کے پی کے کے آخری ہوتر سے صوبے کے سب سے بڑے مناصب ۔۔۔۔ وزارت اعلیٰ اور گورنری کے تخت پر بااختیار حاکم رہے ہیں ۔۔۔۔ شاید صدیوں تک سردار مہتاب کا یہ ریکارڈ کوئی نہ توڑ سکا، (دیگر تفصیلات ۔۔۔ اس لنک میں:http://gkpkwa.blogspot.com/) اسی سال بھارتی صوبوں آسام اور ہماچل پردیش پر تین بار گورنری کرنے اور بیروٹ سے تعلق رکھنے والے شفیع قریشی بھی انتقال کر گئے، انہیں کولکتہ میں سپرد خاک کیا گیا۔

اس سال کا اہم ترین واقعہ وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کا دورہ سرکل بکوٹ تھا مگر ۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اختلافات کے باعث اہل سرکل بکوٹ ۔۔۔ تحصیل اور ڈگری کالجوں کے قیام کے ۔۔۔۔ محض مشروط اعلانات ہی حاصل کر سکے، وزیر اعلیٰ کے ساتھ ۔۔۔۔ معزین سرکل بکوٹ کے فوٹو سیشن کے علاوہ ۔۔۔۔ کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا، وزیر اعلیٰ کا یہ دورہ 1973 میں وزیر اعلیٰ اقبال خان جدون کے بعد پہلا دورہ تھا ۔۔۔ سردار مہتاب احمد خان نے بھی وزیر اعلیٰ اور گورنر کی حیثیت سے اپنے حلقے کے دورے کئے مگر ۔۔۔۔ ان کے دورے تو گھر کی بات تھی ۔۔۔۔۔ تفصیلات اس لنک میں:http://ticb45.blogspot.com/

سیاسی لحاظ سے اس سال ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون اور ایم پی اے سردار فرید خان کی سرکل بکوٹ میں آنیاں جانیاں بھی محض ۔۔۔ عوامی اعتبار سے پھڑی کی پھڑی ۔۔۔۔ ہی رہیں، سارا سال دونوں عوامی نمائندےLook busy, do nothing کی پالیسی پر گامزن رہے، ایک بات ضرور ہوئی کہ سردار مہتاب احمد خان نے ۔۔۔۔ اپنے دورہ سرکل بکوٹ کے دوران ۔۔۔۔ بابائے سیاست سردار گلزار خان ۔۔۔۔ کو اپنا سیاسی استاد قرار دے کر بڑے لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔ ان 12 ماہ کے دوران نون لیگ سمیت پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے اور تو کچھ نہیں کیا تاہم اپنے اپنے یوتھ ونگز کو ضرور فعال کر دیا، ان دونوں عوامی نمائندوں نے بیروٹ خورد میں ہوترول اور وی سی باسیاں کے گلندکوٹ لینڈ سلائیڈ متاثرین کی ۔۔۔ ایک آنے ۔۔۔ کی بھی مدد نہیں کی تاہم جماعت اسلامی بیروٹ کے امیر ساجد قریش عباسی بے گھر متاثرین کیلئے اپنی اراضی عطیہ کرنے کے اعلان پر بدستور قائم رہے ۔۔۔ ستمبر میں فرید خان کی گرانٹ سےدیوان باسیاں سے گلند کوٹ تک ایک لنک روڈ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا مگر اس پر بھی تاحال اختلافات موجود ہیں، دو دو تختیاں لگانے کے باوجود چُوریاں ہمبوتر روڈ ابھی تک ادھوری ہے جبکہ چُوریاں سندواری ہل روڈ کو سیمنٹ ڈال کر وی بیروٹ کلاں کے وائس چیئرمین اور ٹھیکیدار عتیق عباسی نے پختہ کر دیا ہے، ریالہ سے نکلنے والی ترمٹھیاں روڈ بھی راجہ مبین خان کی قیادت میں مکمل کر لی گئی ہے، باقی سرکل بکوٹ بھر میں ترقیاتی کام اعلان ۔۔۔ کے چار حروف سے زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ اس سال ویلیج کونسلیں بھی فعال کی گئی ہیں، انہیں آفسز کے علاوہ سیکرٹری اور سرکاری تنخوادار عوامی نمائندے بھی ملے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال سرکل بکوٹ بھر میں سب سے پہلے ویلیج کونسل بیروٹ خورد کا پہلا ٹینڈر ہوا، ابھی تک دیگر وی سیز کے بھی ٹینڈرز ہو چکے ہیں ۔۔۔ اس سال سرکل بکوٹ بھر کے ممبران ضلع و تحصیل کونسل کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی اور وہ اپنی اپنی یو سیز میں ترقیاتی فنڈز لانے میں بری طرح ناکام رہے جسے عوام علاقہ نے بھی محسوس کیا ہے۔

اختتام سال ایم این اے ڈاکٹر اظہر جدون کے ساتھ ایبٹ آباد کی اہم تقریب میں جو واقعہ پیش آیا اس کی مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور خود پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے مذمت کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔۔۔۔ دعا کریں کہ 2017 سرکل بکوٹ کیلئے مزید ترقیاں لائے۔

Wednesday, November 9, 2016

Political History of Birote

MOHAMMAD 

SHAFI QURESHI

by
MOHAMMED OBAIDULLAH ALVI
******************************
کھنی بگلہ، یونین کونسل بیروٹ، سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے، بیروٹ کے رکن ضلع کوندسل خالد عباس عباسی کے پڑوسی، سرکل بکوٹ کے پہلے ٹرانسپورٹر اور ٹھیکیدار راجہ محمد امین خان مرحوم کے صاحبزادے، معروف سماجی شخصیت ٹھیکیدار عبدالمجید عباسی کے سوتیلے بھائی اور بھارتی صوبوں مدھیا پردیش، یو پی اور بہار کے تین بار گورنر رہنے والے محمد شفیع قریشی نئی دہلی میں انتقال کر گئے ہیں اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں اپنے آبائی علاقے انت ناگ اسلام آباد میں سپرد خاک کیا گیا، ان کی عمر 86 برس تھی ۔۔۔۔ انہوں نے اپنے لواحقین میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں ۔۔۔۔ ان کا تعلق بیروٹ کے ڈھونڈ عباسی نوائیسال خاندان سے تھا اور وہ قدیم تاریخ ہند سے عشق کی حد تک پیار کرتے اور اسے کھوجتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے ۔۔۔۔آخری بار عبدالمجید عباسی کے جنازہ میں شرکت کیلئے بیروٹ، پاکستان آئے تھے۔ 
محمد شفیع قریشی راجہ محمد امین خان کی انت ناگ اسلام آباد، مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی دوسری اہلیہ کے بطن سے تھے اور اپنے قریشی ننھیال کی وجہ سے وہ عباسی کے بجائے قریشی کہلواتے تھے ۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی ساری تعلیم علی گڑھ اسلامی یونیورسٹی سے حاصل کی تھی اور وکیل کا پیشہ اختیار کیا تھا، وہ ایک بار بھارت کے وفاقی وزیر ریلوے بھی رہے، مدھیا پردیش کے 24 جون 1993 سے 1998 تک گورنر رہے، بھارتی ہندی اخبار روزنامہ پتریکا دہلی کا کہنا ہے کہ جناب محمد شفیع قریشی کا ریل وزیر کا دور آج بھی یاد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ ان کی مدت کے دوران جموں توی ریلوے سٹیشن پر پہلی ٹرین سروس شروع ہوئی تھی. دو بار لوک سبھا (بھارتی قومی اسمبلی) کے رکن رہنے کے بعد شفیع قریشی مدھیا پردیش اور بہار کے گورنر بھی رہ چکے ہیں. مدھیہ پردیش میں قریشی کا دور حکومت 24 جون 1993 سے 21 اپریل 1998 تک رہا ۔۔۔۔۔ بھارتی انگریزی اخبار دی ہندو نے انہیں جموں و کشمیر کا ایک خیر خواہ رہنما قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے اخبار سکوپ نیوز کے مطابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ شفیع قریشی نے اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں متعدد آئینی، سیاسی اور انتظامی عہدوں پر کام کیا اور بھارت میں اپنے تجربات سے کئی شعبوں میں اضافے کئے ۔۔۔۔۔ اخبار کے مطابق غلام نبی آزاد نے ان الفاظ میں شفیع قریشی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے: Leader of Opposition in Raja Sabha and former Union Minister Ghulam Nabi Azad has expressed his grief and sorrow on the sad demise of veteran party leader Mohd Shafi Qureshi. Mr Azad described him as torch bearer of Congress ideology and secular Parliamentarian. Azad said Mr Qureshi was public friendly and upright gentleman

Tuesday, December 16, 2014

Searched and Written by 
MOHAMMED OBAIDULLAH ALVI
Journalist, Historian, Bloger and Anthropologist
**************************************
Daily Aaj Peshawar, 27th April, 2014
**************************************
The Pakistan Movement as it came to be known was based on the principal of two-nation theory, the outcome of the desire of Muslims of India to establish a separate homeland for Muslims. This was a movement against oppression, perceived or real, that living with Hindu majority within combined India will not allow Muslims the opportunities that they rightfully deserve. Interestingly the Pakistan Movement was staunchly opposed by the some of Mullahs who one would have thought would be inclined to support a Muslim cause, instead the movement was spearheaded by Muhammad Ali Jinnah.

Political history of Circle Bakote

Circle Bakote is half territory of Tehsil of Abbottabad and people of area demanding to declare it as sub division since two decade. This area was a part of Gandhara, Kashmir, Punjab in past but it declare a part of Hazara, Pakistan, Khyber Pakhtunkhwa in last decade of 19th century. It was the priorities of colonial rulers to divide and rule and crush people who were demanding self-rule or right of self-determination. This area has a complete culture and civilization and a history of politics.

First Election in British India                    
General elections were held in British India in 1920, the first in the country's history. The new Central Legislative Assembly based in Delhi had 104 elected seats, of which 66 were contested and eight were reserved for Whites elected through the Chambers of Commerce. For the upper chamber, the Council of State, 24 of the 34 seats were contested, whilst five were reserved for Muslims, three for Whites, one for Sikhs and one for the United Provinces.(To be continued)

Political history of NWFP

In 1901 the North West Frontier Province (now Khyber Pakhtunkhwa) was declared as a Chief Commissioner's Province and thirty-one years later in 1932 its status was declared as a Governor's Province. In 1937, the Government of India Act 1935 was enforced in NWFP and the North-West Frontier Province Legislative Assembly formed by Sahibzada Abdul Qayyum Khan. Abdurahman Khan of Banda Pir Khan was elected first MLA of Provincial Legislative Assembly from Tehsil Abbottabad. People of Circle Bakote casted their vote in Gharhi Habibullah in this election. The first speaker was K.B Abdul Rahim Khan Kundi, who worked in this slot from 1932 to 1936 and was followed by Khan Habibullah Khan.This minority government fell shortly afterward and Dr.Khan Sahib, backed by the Khudai Khidmatgar was elected Chief Minister. His government resigned in 1939 as a part of the Indian National Congress's Quit India Movement. The provincial government remained suspended for over three years before a minority government was formed by the Muslim League Sardar Aurangzeb Khan. This government collapsed in 1944 when Dr. Khan managed to form a government again, before calling an election in 1946.
 
 Abdurahman Khan of Banda Pir Khan
 The first elected MLA of Provincial Legislative Assembly from Tehsil Abbottabad before independence.

جب قائد اعظم نے  تاریخی کوہالہ پل عبور کیا؟

یوں تو کوہسار پر گکھڑوں کے یکطرفہ اقتدار کے خلاف معرکہ آرائی اور رنجیت سنگھ کے دربار لاہور اور پھر جموں کے تہزیب و تمدن کے دشمن گلاب سنگھ کی بدکردار اور لٹیری حکومت کے خاتمہ کے بعد ہند بھر کے مسلمانوں کی طرح اہلیان کوہسار کے ہاتھ کچھ بھی تو نہ آ سکا، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے نتیجے میں برطانوی استعمار نے جب برصغیر سے اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کیا تو سوال پیدا ہوا کہ انگریزوں کے اس خلا کو کون پر کریگا، یہاں تو ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے حکومت کی تھی، جس کی وجہ سے تمدن خور ہندوستانی تہذیب کو نئی اقدار حکومت و سماج سے آشنا ہوئی اور اس بتکدے میں ہکتا و تنہا رب الارباب کی صدائیں بلند ہوئیں..........یہی وہ دوقومی نظریہ کی اساس تھی جس نے ہندو، ہندی اور ہندوستان کا نعرہ مسترد کرتے ہوئے مسلم، اردو اور پاکستان کا فلک شگاف نعرہ لگا دیا اور قائد اعظم کی سرفروشانہ قیادت میں جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کا قلعہ یعنی پاکستان قائم کر دیا، جہاں آج ہم آزادی کے سانس لے رہے ہیں۔
برصغیر کے پہلے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی اور کوہسار میں ہندونواز کانگریس سمیت دیگر جماعتوں کے عوامی استرداد کے بعد یہ بات الم نشرخ ہو چکی تھی کہ ہادی دوعالم ﷺ کے پروانے مسلم لیگ، قائد اعظم اور پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے آپشن کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور گکھڑوں کے آٹھ سو سالہ اقتدار کے خاتمہ، رنجیت سنگھی اور گلاب سنگھی راجواڑوں نے اہلیان کوہسار کی تہذیب و ثقافت کو لوٹنے کیلئے کتھریوں کی ایک بڑی تعداد کو یہاں لا بسایا تھا انہیں بھی معلوم ہو گیا تھا کہ اب یہاں ان کی کو ئی گنجائش نہیں رہی اور اب انہیں اس پاک سرزمین سے انخلا کرنا ہی پڑے گا۔ چنانچہ ایبٹ آباد شہر سے باہر کانگریس اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان سمیت دیگر مسلم لیگ مخالف جماعتوں کا کوئی اثرو رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا، 23 مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور جو بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی کی منظوری کے بعد سرکل بکوٹ کی سیاست میں تبدیلی رونما ہوئی اور سرکل بکوٹ کے کانگریس نواز جاگیردار سردار حسن خان لے بھی چولا بدلا اور مسلم لیگ جوائن کر لی اور اہلیان کوہسار نے انگریزی اقتدار کے آخری 1945ء کے الیکشن میں سرداری کی پگ اسی کے نام کر دی۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ آزادی کے بعد 1952ء کے پہلے الیکشن میں اسے ہمیشہ کیلئے مسترد کر دیا۔ سردار حسن علی خان کی اسی یونین کونسل بوئی کے رہائشی کشمیری نژاد سید غلام حسین کاظمی نے بر صغیر کی تاریخ صحافت میں پہلی بار1936 میں ایبٹ آباد سے ہفت روزہ پاکستان کے نام سے اخبار نکال کر پاکستان کا پیغام عام مسلمانوں تک پہنچانے کی کوشش کی، چوہدری رحمت علی تو اس وقت تھرد ائر کے سٹوڈنٹ تھے۔ ان کا یہ دعویٰ بلکل درست نہیں کہ وہ لفظ پاکستان کے خالق ہیں بلکہ پاکستان کا نام تو سرکل بکوٹ کے ایک پسماندہ دیہاتی علاقے بوئی کے سید غلام حسین کاظمی کے ذہن کی اختراع ہے، جدید علمی تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔(تفصیلات کیلئے دیکھئے Pakistan Chronicle از عقیل عباس جعفری بحوالہ روزنامہ جنگ راولپنڈی، 16اگست2012ء)
قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد قیام پاکستان کی منزل جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کو چند قدم کے فاصلے پر نظر آنے لگی لیکن ابھی حصول منزل کیلئے کافی جد و جہد کی ضرورت تھی، سحر پیدا کرنے کیلئے ابھی ہزاروں ستاروں اور سیاروں کی قربانی پیش کی جانی تھی۔
شمالی پنجاب میں مسلم لیگ کی مقبولیت اور کانگریس و حکمران یونینسٹ پارٹی کے زوال کے آثار نمایاں تر ہوتے جا رہے تھے، جوہر لال نہرو اس صورتحال سے پریشان تھے۔ اس سلسلے میں وہ کشمیر کے راستے کوہسار آنے کیلئے کوہالہ پل پر پہنچے ، مگر کوہسار کے مسلمانوں نے محارہ کے طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر تھپڑ رسید کر کے نہرو کو غربی کوہالہ میں قدم بھی رکھنے نہیں رکھنے دیا اور اسے وہاں سے ہی واپس دہلی جانا پڑا، یہ تھپڑ بھی قیام پاکستان کی نا گزییریت کی ایک اینٹ تھی، قائد اعظم محمد علی جناح نے اس خطہ کے لوگوں اور اپنے جانثاروں سے براہ راست رابطے کیلئے یہاں آنے کا پروگرام بنایا، آپ جولائی 1944ء میں کشمیر کے راستے کوہالہ کے قریب برسالہ کے مقام پر پہمچے، قائد کی جھلک دیکھنے کیلئے غربی کشمیر، سرکل بکوٹ اور مری کے کوہساروں کے چپہ چپہ سے لوگوں کا سمندر امڈ آیا تھا، قائد اعظم کی کار کو کوہسار کے پھولوں سے لاد دیا گیا تھا، قائد نے یہاں چائے نوش جاں کی اور پھر آدھے گھنٹے بعد کوہالہ پل پر پہنچے تو اہلیان کہسار ان کے ہاتھ چومنے کیلئے آگے بڑھنے لگے، کوہالہ کا یہ تاریخی پل پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجھنے ، 

عبدالکریم خان آف باسیاں

آپ نے ہاتھ ہلا ہلاکر پاکستان کے متوالوں کے سچے اور سُچے جذبات کو سراہا،اس موقع پر آپ کو موجودہ ڈاک بنگلہ کوہالہ کے مقام پر باسیاں کے عبدالکریم خان نے استقبالیہ بھی دیا جس میں بیروٹ سے تعلق رکھنے والے پہلے مسلم لیگی اور یو سی بیروٹ سے موجودہ رکن ضلع کونسل خالد عباس عباسی کے والد بزرگوار ۔۔۔۔ عباس خان عرف مہندو خان نے اہلیان بیروٹ کی طرف سے ہزاروں روپے کا چندہ بھی مسلم کے فنڈز میں دیا ۔۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کے ہزاروں افراد کا قافلہ ان کے ساتھ دیول تک ساتھ آیا۔نور الٰہی عباسی اپنی کتاب تاریخ مری (نیا ایڈیشن) کے صفحہ نمبر 185پر لکھتے ہیں۔
اس موقع پر لوئر دیول کے بزرگ رہنما امیر احمد خان صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل کر قائد اعظم کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، انہوں نے بصد خلوص احترام پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا کہ برگ سبز است، تحفہ درویش است، (ایک بزرگ کی طرف سے سبز پتوں کا تحفہ قبول کر لیجئے) یہ کہتے ہوئے بابا امیر خان کی نظریں بابائے قوم کے چہرے پر مرکوز ہو گئیں ۔۔۔۔۔ قائد اعظم نے بابا جی سے پوچھا۔
بابا جی بتائیں میں کون ہوں اور میرا مشن کیا ہے؟
جی آپ مسلمانوں کے عظیم رہنما اور قائد اعظم محمد علی جناح ہیں اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ بابا احمد خان نے بڑی متانت سے جواب دیا۔

عباس خان آف بیروٹ خان
قائد اعظم نے مری پہنچ کر جو تقریر کی وہ اگرچہ انگریزی زبان میں تھی اور اس کا مری کے ممتاز مسلم لیگی رہنما خواجہ محمود احمد منٹو ساتھ ساتھ اردو میں ترجمہ بھی کر رہے تھے (یہ تقریر پاکستان نیشنل آرکائیوز اسلام آبادکے ریکارڈ میں موجود نہیں) نور الہی عباسی ہی اس کے راوی ہیں، اپنی کتاب تاریخ مری میں لکھتے ہیں۔
۔۔۔۔ میں جانتا ہوں مری کا پتہ پتہ مسلم لیگی ہے جبکہ ہمیں ہندو کانگریس اور انگریز سامراج کا سامنا ہے،،چکی کے یہ دو پاٹ ہمیں پس دینے پر تلے ہوئے ہیں،آپ دونوں کے درمیان لوہے کے چنے بن جائیے تاکہ پس نہ جائیں۔ (، اس موقع پر راجہ کالا خان نے نہ صرف قائد اعظم کی میزبانی کی بلکہ انہیں قبائل کوہسار کی طرف سے مسلم لیگ کے فنڈ میں ایک لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا )۔
قائد کا کوہسار سرکل بکوٹ اور مری کا یہ پہلا اور آخری دورہ تھا، آپ کے اس دورے کا اثر یہ ہوا کہ یہاں مقیم کانگریسیوں کے حوصلے پست ہو گئے، علاقے میں ایک نیاجوش و ولولہ دوڑ گیا اور واقعی کوہسار کا پتہ پتہ مسلم لیگی ہو گیا، اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کی عید آزادی کی صبح نمودار ہو گئی۔۔۔۔لیکن آج 70 سال بعد وہ خواب جسے اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا اس کی تعبیر معکوس نے قوم کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔۔۔۔ کیا خلد بریں میں موجودہ پاکستانی حالات پر قائد اور اقبال کی روح تڑپتی نہ ہو گی؟
1946 Election
Tehsil Abbottabad was divided in to two constituencies as Abbottabad West (NW-4) and Abbottabad East (Circle Bakote, Garhi Habibullah and Bala Kot) as NW-5. Zain Mohammed Khan won in NW-4 with 98.7 and Sardar Abdu u Rahman of Lora, with 91.04 turn out. Both condites were from All india Muslim League. This was the last and least election under British Indian Authorities. 

Dr. Khan Government of 1946
Dr> Khan got support of 30 members in Assembly in which one dozen was Hindus who migrated to India in 1947 and he elected as last Chief Minister of NWFP of united India. He was a All India Congress Muslim leader in NWFP who refused to salute to Pakistani national flag on 14th August, 1947. His workers shouted the slogens of Pakhtonistan at his residence Charsada. Quaid e Azam Mohammed Ali Jinnah, the Governor General of Pakistan noticed this and dismissed his government on 22nd August, 1947. Mian Jafer Shah, a member of Lagislative Assembly left All India Congress and announced to get membership in All India Muslim League. A active member of Abbottabad Faqira Khan Jadon participate a golden political charactor during Pakistan Movement in Hazara. He was always host of Muslim League leadership including Mohammed Ali Jinnah when he came in Abbottabad.
 

Political history of Circle Bakote

M O Alvi Urdu artical related to politics of Circle Bakote

See also Political History of Pakistan

Circle Bakote is half territory of Tehsil of Abbottabad and people of area demanding to declare it as sub division since two decade. This area was a part of Gandhara, Kashmir, Punjab in past but it declare a part of Hazara, Pakistan, Khyber Pakhtunkhwa in last decade of 19th century. It was the priorities of colonial rulers to divide and rule and crush people who were demanding self-rule or right of self-determination. This area has a complete culture and civilization and a history of politics.(To be continued)

Local Bodies System of 2014

PTI Government in 2014 introduce and divided Union Councils in to Village Councils. According new map of UCs and VCs the final list as issued by Abbottabad Authorities as under: (Read More)

Bakote......... 17th October, 2014
On 16th Dec, 2013

 On 26th Dec, 2013

 On 5th Jan, 2014
 10th Feb, 2014
NA 17 ڈاکٹر اظہر جدون NTN: - -4NO4117825 نے مبلغ صرف 17875 روپے ٹیکس ادا کیا ہے NA 18 مرتض جاوید NTN, No 22689823-0 n نے صرف مبلغ 117553 روپے ٹیکس ادا کیا۔ جبکہ NA 50 شاہد خاقان عباسی NTN NO 0660505-2 نے مبلغ 1205974 روپے ٹیکس جمع کروایا ہے۔ اسی طرح PP: 1 راجہ اشفاق سرور NTN NO 0657478-4 نے صرف 26600 روپے ٹیکس حکومت کے خزانے میں جمع کروایا ہے۔ PK 45 سردار مہتاب احمد خان NTN NO: 0991906-6 نے 153844 روپے ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ PK 48 سردار محمد ادریس NTN No  نے صرف 3500 روپے ٹیکس اد کیا 
 
The famous political poem of Molana Alvi Birotvi in first Circle Bakote Election of 1952
 
Pir Haqiq ul allah Bakoti
public meeting at Birote
as narrated by
Syed Masoom Ali Shah
on 29th Dec, 1951.

Pir Haqiqullah Bakoti was the younger son of Hadhrat Molana Pir Fakir-u-llah Bakoti and became one of the first members of the North-West Frontier Province's legislative assembly (MLA) from the Circle Bakote area. He was a custodian of the Pir Bakoti shrine - a position he inherited from his father. He was a student of the Islamic University ofDeobandIndia and got direct education by renowned Islamic scholar Anwer Shah Kashmiri, Hussain Ahmed Madni and Ashraf Ali Thanvi. His elder brother Sahibzada Pir Atiqullah Bakoti was not interested in politics and he died in his youth. He took part in the elections of 1952 and won election with a landslid victory as an undisputed candidate of NWFP Assembly from Circle Bakote and defeated Banba-Khakha Sardar Hasan Ali Khan (Grand Father of Abdul Qayom Khan of Boi). He moved a motion in respect of Sharia Law in NWFP assembly first time. He organized Anjuman-e-Kashmeriaan (Association of Kashmiries) in Bakote in 1942. He received and met Quad-e-Azam Mohammed Ali Jinnah at Western Kohala with delegates of dignitaries of Murree and Circle Bakote . He placed the flag of the newly borne Islamic Republic of Pakistan on Kohala Bridge with Sardar Yaqoob Khan, Molana Yaqoob Alvi Birotvi, Lamberdar Isab Khan and many others. He led and participated in the great public procession in Murree. He died in July 1968 and was buried on the left side of his father Hadhrat Pir Faqir-u-llah Bakoti. He was succeeded by Sahibzada Pir Mohammed Azhar Bakoti. (Read More)
 Lahore: Raja Abdurehman addressing on
 historical occasion of
Pakistan Resulution on 23rd March, 1940.
He was representing a delegation from district Hazara.
 
Sardar Anayturahman Abbasi
The first MNA of Circle Bakote and Circle Lora in West Pakistan Assembly during 1962 to 1968. For more detailes read his Book and visit UNION COUNCIL BIROTE IN PICTURE.
Sardar A Abbasi an
historical peach in Assembli in 1963



****************************************
NOW GOVERNOR KHYBER PEKHTONKHWA
has taken oath as the Gorerunner for the Khyber-Pakhtunkhwa  on Tuesday, April, 2014
Daily Aaj Abbottabad, 24th April 2014
****************************************

SARDAR MEHTAB AHMED KHAN
The most influential national leader from Circle Bakote since 1985 todate.

1997 - Sardar Mehtab Abbasi
 taking oath as Chief Minister NWFP (KPK)


Urdu articles of M O Alvi related to Sardar Mehtab 27 years of his political evolution


Sardar Mehtab Ahmed Khan (born 15 December 1952 in Malkot, proposed sub division Circle Bakote) Abbottabad District to a Hindko speaking family of Hazara) is a Pakistani politician and former Chief Minister of Khyber-Pakhtunkhwa from 1997 to 1999 and Federal Minister for Railways in the 2008 PM Yousaf Raza Gillani cabinet.[1] He is politically affiliated with PML-N, where he is the Senior Vice President. He has served as a senator from March 2003, but resigned on March 17, 2008, when he won the NA-17 Abbottabad-I National Assembly seat in the 2008 general election, held on February 18, 2008. He has lost his MNA ship in 2013 Election. Now he is an MPA of PK-35 only and Apposition Leader in KPK Assembly.    (Read also Sardar Mehtab Khan assets report of 2008-09 on page 33 of NA-17)

Dr Azher Jadon, MNA NA 17

He introduced defeat to Sardar Mehtab first time in his life
in 2013 election
......... Next picture of Circle Bakote in new political scenario
Sardar Freed Khan, first cousin of Sardar Mehtab and new MPA of Circle Bakote

 Saeed Ahmed Abbasi
Amir Jamaet e Islami, District Abbottabad


Saeed Ahmed Abbasi سعيد احمد عباسى is head ofJamaat-e-Islami,[1] Abbottabad,[2] Pakistan, elected in mid 2010. He is an educationist, a politician and a social worker. He has a rich family background and his family have served Pakistan in different fields. Mohammed Hanif Abbasi is a member of the National Assembly of Pakistan, Iftekhar Abbasi is the Ambassador of Pakistan in Kuwait, Commander Aziz Khan, first high official of Pakistan Navy from Circle Bakote, Haji Sarfraz Khan was Accountant General of Pakistan in President General Ayub Khan era[3] and Tahir Faraz Abbasi was Ex Nazim local Union Council Birote all belonged to his KHANAL sub tribe of Dhund Abbasi tribe of Circle BakoteMurreeand Azad Kashmir. (Read more)
 Tahir Fraz Abbasi, Ex Nazim Birote and senior leader of PTI Abbottabad
 
Haji Sarfraz Khan
King maker of Circle Bakote
Raja Mobin Khan
Ex Member District Council Abbottabad
Raja Abd u Rahaman Abbasi
Sardar Haseeb Abbasi Advocate
Sahibzada Pir Mohammed Azher Bakoti

 Habeeb u Rehman Abbasi Advocate (Jamat e Islami PK 45)
He transered his basic membership of Jamaet e Islami in Rawalpindi after political defeat of 2013 Elections
 
 Sardar Fida Khan, Ex MPA
 Sardar Gulzar Abbasi of Sangel, Peoplz Party MPA of 40 days in 1977 in NWFP Assembly
 Sardar Shamon Yar Khan,  
Sardar Mehtab's son and MPA in 2008-12
 Tahir Amin Abbasi is also a leader of Tehrik e Insaf in Circle Bakote

REFERENCES
  1. Political History of NWFP 1988-99 by Mohahammed Shakeel Ahmed (a PhD thesis) in NIPS, Quaid E Azam University Islamabd in 2010

EXTERNAL LINKS